آرزو
Poet: Owais Sherazi By: Owais Sherazi, Lahoreغزل کہوں یا نظم کہوں یا آبشار کا پانی
آرزو تجھے کیا کہوں بتا دے مجھ کو تو
دلبر بھی جان من بھی اور جان ِ جاں بنی
دھڑکن تو پیار تو میرے دل کا چین تو
تیری باتیں ُسن ُسن کے دل میرا کھل جائے
پہلے میں اکیلا تھا اب ساتھی بن گئی تو
تو جو کہے تو پیار میں اتنا کر دوں تیرے نام
دل کی کلی کھل جائے اور کھل جائے پھر تو
تو جو بنے گر میری تو آرزو ھو گی پوری
تیری بھی میری بھی اور شاد رھے گی تو
ساتھ جئیں ساتھ چلیں جیون کے رستےمیں
وفا کے دیپ جلانا میرے ساتھ مل کے تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






