آزادنظم
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratسنو لوگو!
نہ چھوئے میرے پیار کو کوئی
میرے یار کو کوئی
کہ بند قباَ کے جیسے خود میں پوش سویا ہے
نہ چھوئے اس کے گلابی ہونٹوں کو کوئی
کسی کو چھونے کی خواہش میں بہت خاموش بند سے ہیں
کہ جن کو چھو کے گزریں گے
وہ مہکے گا وہ تڑپے گا
انہی کے لمس کی خاطر
نہ چھو نا کہ اگر جنبش ہو ئی ان میں
تو خواہشوں کا سمندر ان کے کناروں پر مچل جائے گا
سنو لوگو!
نہ چھوئے میرے پیار کی چاند سی آنکھو ں کوکوئی
کہ جو خواب ہیں ان میں، کسی کو پا لینے کی چاہ کے
وہ تسلسل ٹوٹ نہ جائے
یہ محوِخواب ہیں ایسے ، جیسے کسی تتلی کو پھول پہ نیند آجائے
سنو لوگو!
یہ آنکھیں خود ہی جاگیں گی
مگر نجانے کس کو چاہیں گع
ابھی تو بند ہیں ایسے
مقدس آیتں لپٹی ہو ں غلافوں میں جیسے
ان آنکھو ں کو نہ ستائے کو ئی
کہ یہ آنکھیں ، ان آنکھوں کا چمکنا
مجھے سب کچھ پیارا ہے
کہ ا ن کے واسطے میں نے اپنا آپ ہارا ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






