آغاز محبت
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreآغاز محبت میں ہی سب لٹا بیٹھے تھے
آج اس کی محفل میں خالی ہاتھ بیٹھے تھے
بک رہی تھی اس کی محفل میں آج محبت
کیا دام لگاتے ہم کہ
ہم تو سب ہار کے بیٹھے تھے
خالی نگاہوں سے بوجھل دل سے دیکھ رہے تھے اس کو
جو ہمارا تھا آج اس کے دعوے دار بے شمار بیٹھے تھے
سب نچھاور کر دیا تھا جس کی ایک آواز پر
اس کی آواز سننے کو آج کان ترسے ہوے تھے
بے بسی پر اپنی رونا چاہتے تھے ہم
مگر جانے کیوں اپنے آنسو روک کے بیٹھے تھے
بے لوث محبت کی تلاش ہمیں وہاں تھی
جہاں سب محبت کے خریدار بیٹھے تھے
انھی میں ایک وہ بھی تھا
جس کی محبت میں ہم گرفتار تھے
کیا کہتے کس کو فریاد کرتے
قسمت کو دے کر الزام اپنی جگہ پر آ بیٹھے تھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






