آغوشِ تنہائی اب تک پریشاں تھا کیا تھا
Poet: jahanzab kunjahi By: jahanzeb kunjahi, gujratآغوشِ تنہائی اب تک پریشاں تھا کیا تھا
رگوں میں مثلِ آب رواں تھا کیا تھا
خود کام نہ تھا با وفا تھا نِسترن تھا
نازُک تن تھا گلشنِ قلب و جاں تھا کیا تھا
چشمِ عالم میں تھا کے وہم تھا یا سپنا تھا
اِدھر تھا کے اُدھر تھا کبھی یہاں کبھی وہاں تھا کیا تھا
ہر دل کی تمنّا تھا ہر آنکھ کا نورِ نظر تھا
زمیں پہ منوّر کے اُفق پہ فروزاں تھا کیا تھا
مرا رقص تھا مری چاہتِ بے خودی تھا
مری پکار تھا کے مرا نام و نشاں تھا کیا تھا
جہاں میں تھا وہاں میں نہ تھا وہ تھا
لا عِلم ہوں عشق تھا کے یزداں تھا کیا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






