آنسوؤں کی سوغات
Poet: Nadir Khan By: Nadir Jaskani, zahir pirکہاں یہ آنسوؤں کی سوغات ہو گی
نئے لوگ ہونگے نئی بات ہو گی
میں ہر حال میں مسکراتا رہوں گا
تیری محبت جو ساتھ ہو گی
اندھیری راتوں سے لے کر ستاروں کی زو تک
میں ہر حال میں ملوں گا جہاں رات ہو گی
ہم بھی پریشان تم بھی پریشان
چلو مے کدے میں وہیں بات ہو گی
چراغوں کو اپنی آنکھوں میں محفوظ رکھنا
بڑی دور تک رات ہی رات ہو گی
ہم بھی مسافر تم بھی مسافر
چلو نادر پھر کسی موڑ پر ہی ملاقات ہو گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






