آنکھوں آنکھوں سے پوری کہانی سنائی میں نے
Poet: Tasleem Ahmed Dani By: Tasleem Ahmed Dani, Islamabadآنکھوں آنکھوں سے پوری کہانی سنائی میں نے
زبان نہ کھولی پر آنکھوں کی زبانی سنائی میں نے
ان کی ضد ہے کہ دل کی بات زباں پہ لاؤ
جب بھی وہ ملے اشکوں کی روانی سنائی میں نے
اور یوں ہوا کہ ان پہ اک غزل لکھ بیٹھااک دن
داد تو بہت ملی جب اپنی ہی نادانی سنائی میں نے
کسی نے پوچھا کہ محبت ملی تو کیسا لگا
ٹوٹے ہوے دل کی اک آس پرانی سنائی میں نے
دل پہ زخم دیکھ کے وجہ جو پوچھی کسی نے
کسی اپنے کی پیاری سی نشانی سنائی میں نے
اور وہ جو کہتے تھے کہ ہمیں کوئی نہیں رلا سکا آج تک
بہت روئے جب مجھ پہ بیتی دانی سنائی میں نے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






