آنکھوں جاگتی رہنا
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiمری پلکوں نہ گِرجانا
اے آنکھو! جاگتی رہنا
کہ اُن بے خواب آنکھوں سے وفا تم کو نبھانا ہے
جو بے خوابی وہ سہتی ہیں
تمھیں بھی سہتے جانا ہے
نہ ہو جب تک خمار ان میں
تمھیں اک پل نہیں سونا
اگر ہوگی نمی اُن میں
تو ہوگا تم کو بس رونا
مری آنکھو!
یہی میری محبت کا تقاضا ہے
یہ میرا عہد ہے
یہ میری چاہت کا تقاضا ہے
میں پہلے اُن حسیں آنکھوں کی خاطر نیند لاؤں گا
میں پھر پلکیں گراؤں گا
میں پھرخود کو سلاؤں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






