آنکھوں میں اسکی درد کے ستارے دیکھے
Poet: rizwana By: rizwana, torontoآنکھوں میں اسکی درد کے ستارے دیکھے
چمکتے جگنو جنگل میں سارے دیکھے
خواب وصل یار ہو حتم کیوں کر
ہم نے ڈوبتے کو تنکے کے سہارے دیکھے
چلو چالیں لاکھ سنبھل سنبھل کر
تھے جو شاطر وہی ہارے دیکھے
عنایت لطف محبوب کرم والوں پر
پیاسے کئ سمندر کے کنارے دیکھے
اک ہجوم عاشقاں آستانہ یار پر
پاتے ہوے فیض بس پیارے دیکھے
مرض ہوا نہ کم ہار گے سبہی طبیب
ہم نے ایسے بھی درد کے مارے دیکھے
لگا دی بازی جاں کی اپنی
پر رقیب ہی ان کو پیارے دیکھے
منزل ے مقصود ہو اور دیدار محبوب
منگتے ہوے یہی دعا سارے دیکھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






