آنکھوں کو فقط انکا نظارہ ہی بہت تھا۔۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillسینے میں میرے دھکتا پارا ہی بہت تھا
وحشت کو کسی غم نے ابھارا ہی بہت تھا
گلشن میں برگ برگ پہ ہونٹوں کے نشاں ہیں
اشکوں نے ان گلوں کو نکھارا ہی بہت تھا
اک بار جلتے ماتھے پہ وہ ہاتھ تو رکھتے
تنکے کا ڈوبتے کو سہارا ہی بہت تھا
اوج خمار یاد رہا نہ شرار مے
شیشے نے اس کا عکس اتارا ہی بہت تھا
کل گردش ایام نے جسکو مٹا دیا
وہ زخم میری روح کو پیارا ہی بہت تھا
واعظ ۔ فضائے خلد بہت دلنشیں لیکن
آنکھوں کو فقط انکا نظارہ ہی بہت تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






