آنکھوں کے راستے مرے دل میں عیاں رہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاآنکھوں کے راستے مرے دل میں عیاں رہے
ہم چاہتے ہیں عشق کی دنیا جہاں رہے
دیکھا ہے خون آنکھ کی پتلی میں اب مگر
پلکوں کے آس پاس تو قاتل جواں رہے
ضربِ نگاہ وقت سے بدلا ہے آسماں
لیکن زمیں کے راستے زیرِ بیاں رہے
اس زندگی کے ہاتھ بھی یادوں کی ڈور تھی
مرتے ہوئے بھی یاد ہی میرے کہاں رہے
سنگت میں جن کے نیند بھی قربان ہو گئی
وہ خواب میری آنکھ کے ساتھی گماں رہے
کچھ بھی رہا نہ آپ کے جانے کی دیر تھی
منظر تمہارے ساتھ ہی سب دل وہاں رہے
ایسا بھی کیا کمال ہے وشمہ جہان میں
اک آدمی کے واسطے یہ دل جواں رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






