آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
Poet: SAGAR HAIDER ABBAI By: sagar haider abbasi, karachiسورج جب بھی ڈھلتا ہے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
ہوتی ہے جب روشنی مدہم تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
پہلے تسکینِ دل کی خاطر تمہارا نام لکھتا ہوں
لکھ کر جب نام پڑھتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
مجھ پر تیری یادوں کے جب عذاب اُترتے ہیں
تیرے خیالوں سے گزرتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
میں بھری محفل میں اکثر ہنس کر وقت گزار لیتا ہوں
تنہائی مٰیں جب خود سے ملتا ہوں تو آنکھین نم ہوجاتی ہیں
کوئی جب پیار سے مجھ کو اپنے گلے لگاتا ہے
ٹوٹ جاتا ہے میرا ضبط آنکھین نم ہو جاتی ہیں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کے سوالِ محبت پر
کسی سے کچھ نہ کہہ پاوں تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں
کوئی جب پوچھ لیتا ہے کے تمہارا حال کیسا ہے
میں اگر خاموش رہ جاؤں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
میں دن کو مصروفیت کے بہانے ٹال دیتا ہوں
مگر ابھرتی جب چاندنی ہے تب آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
ابھی تک باقی ہے جاناں مجھ میں احساس غربت کا
بنا کوئی تاج محل دیکھوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
ہزاروں دلوں پہ میرے دل کا راج ہے مگر ساگر
یاد آتے ہیں جب تیرے انداز تو آنکھیں نم ہو جاتی ہٰیں
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم







