آنکھیں
Poet: Abid Hussain Saqib By: Abid Hussain Saqib, Lahoreآنکھیں
تیری آنکھیں کمال کرتی ہیں
میرا غم لازوال کرتی ہیں
ڈوب جاتا ہوں جو ان میں کبھی
کیسے کیسے سوال کرتی ہیں
دیکھ لیں گر یہ آسماں کی طرف
بدر کو بھی ہلال کرتی ہیں
ہم پہ تیرِ ستم چلا کر یہ
ظاہر اپنا جلال کرتی ہیں
ریزہ ریزہ ہیں بکھرے راہوں میں
ہمیں کیوں یہ پامال کرتی ہیں
ہوتی ہیں غمزدہ یہ جیسے ہی
ہمیں بھی یہ پُر ملال کرتی ہیں
شب کو دے کر یہ تیرگی ثاقب
دِن کو رُو بہ زوال کرتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






