آنکھ بن جاتی ھے ساون کی گھٹا شام کے بعد
Poet: M.Z By: M.Z, karachiآنکھ بن جاتی ھے ساون کی گھٹا شام کے بعد
مجھ سے ھو جاتا ھے ھر کوئی خفا شام کے بعد
جاند جب رو کر ستاروں سے گلے ملتا ھے
اک اجب رنگ کی ھوتی ھے فضا شام کے بعد
ھم نے تنھائی سے پوچھا ملو گی کب تک
اس نے بے چینی سے فوری کہا شام کے بعد
لوٹ آتی ھے میری شب کی عبادت خالی
جانے کس عرش پر رھتا ھے خدا شام کے بعد
مار دیتا ھے بچھڑ جانے کا دھرا احساس
کاش نہ ھو کوئی کسی سے جدا شام کے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






