آنکھ بھی تمنائی ہوئی
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aشام سے پہلے ملیں آنکھ بھی تمنائی ہوئی
میرے ہی گھر میں میری خوب پزیرائی ہوئی
وہ مکیں ہیں میری خواہشوں کے دروبام پے یوں
جیسے جلوہ افروز میرے کمرے میں تنہائی ہوئی
کر کے روح آلودہ میری وہ غافل ہیں یوں مجھ سے
کہ جیسے آج رات ہی ان سے شناسائی ہوئی
ان کے آنچل میں یوں الجھے کہ گنوایا سب کچھ
کہ میرے احباب میں میری خوب رسوائی ہوئی
لب سلا کے لائے ہیں ہم محفل کیف و طرب میں آج
جیسے ناں پینے کی برسوں سے قسم کھائی ہوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







