آنکھ نم نہیں
Poet: By: hukhan, kohatوہ آشنا کر گیا رنج الم سے
پھر بھی کسی غم کا غم نہیں
آج بھی کوئی آنکھ نم نہیں
شاید ہم ہی نسل فرہاد سے نہیں
ہاں اس لیے اس کے جانے کا ملال نہیں
کیا ہوا جو رشتے نئے اس نے بنائے
ہمیں اس بات کا رنج نہیں
ترک کے تعلق کی یہ رسم صدیوں پرانی کوئی نئی نہیں
یہ چلن آج بھی ہے زمانے کا ہمارا نہیں
ہمیں یقین ہے ہمارے ہاتھ کے لکیروں میں اس کا نام نہیں
ہو نصیب میں کوئی گلابی شام اب وہ موسم نہیں
اسے یاد کرے دل شاد اب وہ وقت نہیں
سر شام کوئی سرگوشی سنے ہم اب یہ ستم نہیں
پھر سے روشن ہو قندیل سحر شاید اب وہ حوصلہ نہیں
کروں کوئی شکوہ اپنے رب سے ایسا میں کافر نہیں
ہاں اب یہ آنکھ ہوتی نم نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






