آنکھ کھلی توکسی کالہجہ,چہرہ بدل گیا
Poet: Humaira Hammad By: Humaira Hammad, Gujranwalaجاتے سمےمجھےمل کرنہ گیا,وہ بدل گیا
میں زمیں ر ہی و ہ آ سما ں بنا تو بدل گیا
جسکے قد مو ں کی خا ک چو منےگر ی
وہ ستمگر دیوانہ بنا کرراستہ اپنا بدل گیا
کل دیر تلک سو تی ر ہی ا ک شہز ا دی
آنکھ کھلی توکسی کالہجہ,چہرہ بدل گیا
میں اپنی بےتابی کی داستان سنادیتا
مجھےدیکھ کروہ شخص بات ہی بدل گیا
اس سے کہنا نہ آ ئے و ہ لو ٹ کرحمیرا
اک شاعرا لجھا سا ہجر میں دنیا بدل گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






