آنکھ ہے اشک بار ٹوٹ گیا
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaآنکھ ہے اشک بار ٹوٹ گیا
یہ دلِ داغ دار ٹوٹ گیا
ایک دل ہی مرا سہارا تھا
وہ مرے غمگسار ٹوٹ گیا
بے ردا ان کو دیکھ محفل میں
اپنا سارا خمار ٹوٹ گیا
پھر یوں بارش ہوئی عنایت کی
بے رخی کا غبار ٹوٹ گیا
جب رقیبوں سے پیار بڑھنے لگا
دل ہوا سوگوار ٹوٹ گیا
بڑھتے بڑھتے شکوک اتنے بڑھے
اپنا رشتہء پیار ٹوٹ گیا
ساری دنیا کو چھوڑ کر میں نے
جو کیا استوار ٹوٹ گیا
جعفری بے سکون رہنے لگے
جب سے قلبی قرار ٹوٹ گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






