آٶ بتاٶں تم کو کہ میرے کیا ہو تم
Poet: جنید خان پہوڑ By: جنید خان, Khanewalآٶ بتاٶں تم کو کہ میرے کیا ہو تم
تہجد کی دعا ہو تم میری رب سے واحد استجا ہو تم
"آٶ بتاٶں تم کو کہ میرے کیا ہو تم,
فقط رب گواہ ہے جن دعاٶں کا انکا عنوان ہو تم"
"آٶ تم کو بتاٶں کہ میرے کیا ہو تم,
روح کا ساز ہو تم پاگل دل کی آواز ہو تم"
"آٶ تم کو بتاٶں کہ میرے کیا ہو تم"
"دن کا آغاز ہو تم شام کا اختتام ہو تم"
"آٶں تم کو بتاٶں کہ میرے کیا ہو تم"
آنکھوں کی ٹھنڈک ہو تم ہونٹوں کی مسکراہٹ ہو تم"
"آٶ تم کو بتاٶ کہ میرے کیا ہو تم,
میرے دل کی ملکہ ہو تم, ایمانِ محبت کا جز ہو تم"
"اور کیا حقیقت بتاٶں یار جنید تمہاری,
مجھ میں فقط سب کچھ ہو تم"
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






