آپ مسکرائے ہیں
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiیک بہ یک کِھلی بہار، آپ مسکرائے ہیں
دل کو آگیا قرار، آپ مسکرائے ہیں
زندگی مہک اُٹھی، خامشی چہک اُٹھی
دل میں بج اُٹھا ستار، آپ مسکرائے ہیں
تیرگی بکھر گئی، روشنی سے بھر گئی
رات جو تھی سوگوار، آپ مسکرائے ہیں
تھی خزاں گئی کدھر؟ آج شاخ شاخ پر
گُل قطار درقطار، آپ مسکرائے ہیں
رُک گیا وہیں سمے، پنچھیوں کے پر تھمے
تھم گئی ہوا میں ڈار، آپ مسکرائے ہیں
وحشت والم گئے، دور سارے غم گئے
ہنس دی چشمِ اشک بار، آپ مسکرائے
ہوکے آپ کے دیار، آئی بادِ مشک بار
کہہ رہی ہے بار بار، آپ مسکرائے ہیں
دل پہ کیا ہو اختیار، ہے خمار ہی خمار
آپ جو ہیں میرا پیار، آپ مسکرائے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






