آگ لگتی رہی اور بجھاتے رہے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiآگ لگتی رہی اور بجھاتے رہے
دونوں دل پیاسے پیتے پلاتے رہے
ہم نادان تھے وہ انجان تھے
راز ایک دوسرے سے چھپاتے رہے
آگ بڑھتی گئی چمن جلتا گیا
دلکشی کے مناظر بھی جاتے رہے
وقت نے ایسے ہم کو جدا کر دیا
بکھری خوشبو تو گل مسکراتے رہے
یاد الفت کی ہم کو ستانے لگی
ہم روتے رہے مسکراتے رہے
ہم ایک دوسرے میں بسے اس طرح
اشک بن بن کے آنکھوں میں آتے رہے
جب حسن تھا عشق بھی اور جوانی اشتیاق
ہم تو نظروں سے شمعیں جلاتے رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






