آگ پانی میں
Poet: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati By: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati, Hyderabad, Pakistanلگائی آگ کس نے اسطرح بے لاگ پانی میں
جدھر دیکھو نظر آتی ہے ہرسو آگ پانی میں
کرشمہ ہے کسی کے آتشیں رخسار کا شاید
لگائی اسطرح کس نے ہے آخر آگ پانی میں
ہیں زلفیں اُس پری وش کی نہ کھاؤ خوف تم ان سے
نظر آتے ہیں لہراتے ہوئے جو ناگ پانی میں
اِدھر بھی اشک آنکھوں میں اُدھر بھی اشک آنکھوں میں
اِدھر بھی آگ پانی میں اُدھر بھی آگ پانی میں
بھروسہ کچھ نہیں اس کا دغا دے جائے کب ہم کو
یوں سمجھو زندگی کو تم، کہ جیسے جھاگ پانی میں
ترنم ہو وہ جھرنوں کا کہ سرگوشی ہو لہروں کی
دلِ حساس نے یاسر سنے ہیں راگ پانی میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






