آ باہوں میں اُٹھا لوؤں تُو کومل ہے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaچشمِ شوق میں بسا لوؤں تُو کومل ہے
آ باہوں میں اُٹھا لوؤں تُو کومل ہے
پتھریلی دنیا میں ٹھوکریں ہیں بے تحاشہ جاناں!
کیوں نا آنکھوں پہ بیٹھا لوؤں تُو کومل ہے
گلستان میں نہ کسی پھول سے ٹکرا جاؤ
رُکوں میں پھول ہٹا لوؤں تُو کومل ہے
لگ جائے نہ نظر تری نظروں کو جاناں!
تجھے ہر نظر سے بچا لوؤں تُو کومل ہے
چشمِ ٹھوس کرتے ہیں استعمال زمانے والے
کیسے میں کہاں چھپا لوؤں تُو کومل ہے
بہار کا کھلا گلاب اور اِک طرف تُو
دونوں کو ساتھ بیٹھا لوؤں تُو کومل ہے
نہال سنگ ذات اپنی شاید کہ کچھ بدلاؤ آئے
کیوں نا سینے سے لگا لوؤں تُو کومل ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






