آ جاؤ مسیحا
Poet: NADIA TARIQ By: NADIA TARIQ, LAHOREمیرے شہر کی سونی راہوں میں
کیوں چھایا گھور اندھیرا ہے؟
ہے ظلمتِ شب کتنی باقی
اور کتنی دور سویرا ہے؟
جس جانب دیکھو بکھری ہیں
بے گورو کفن ، زندہ لاشیں
ہر لمحہ قیامت ہوتا ہے
ہر آن میں ٹوٹتی ہیں سانسیں
ہر راہ ہوئی ہے انگارہ
اور لہو میں ڈوبی دیواریں
گلشن سے دھواں سا اٹھتا ہے
زخموں سے لہو تپکتا ہے
غم بھی یہاں تڑپتا ہے
خود موت کا دم نکلتا ہے
زمیں بھی آگ اگلتی ہے
اور گلک لہو برساتا ہے
کیوں رنگِ حنا بھی خون ہوا؟
کیوں گھر سارے ویران ہوئے؟
کیوں قبرستاں آباد ہوا؟
کیوں خون مین لت پت لاشے ھیں؟
کیوں زندہ گڑے معصوم بدن؟
یہ کس نے آگ لگائی ہے؟
یہ کس نے اجاڑا میرا چمن؟
وہ پھول کی خوشبو کہاں گئی؟
مہکا تھا جس سے پاک وطن
ہیں زخم ابھی تک تازہ کیوں؟
کیا ان کا مسیحا کوئی نہیں؟
بارش ہے برسنے کو تیار
پر پہلا قطرہ کوئی نہیں؟
ہیں لاکھوں فرزندانِ وطن
قاسم کا بیٹا کوئی نہیں؟
جو آنکھیں رستہ تکتی تھیں
وہ آنکھیں اب پتھرا بھی گئیں
لاشوں سے صدائیں آتی ہیں
زندوں کی دعائیں آتی ہیں
آ جاءو مسیحا، آ جاؤ
اب تم کو پکارے پاک زمیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






