آ چھپا لے تو محبت سے مجھے بانہوں میں
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanتیری زلفوں کی مہک سانسوں میں بستی ہے سدا
تیری تصویر خیالات میں رہتی ہے سدا
تو بہت دور ہے جذبات دکھاؤں کیسے
پیار کرتا ہوں مگر تجھ کو بتاؤں کیسے
تیری خاطر جو حسیں گیت لکھے ہیں میں نے
سوچتا ہوں کہ انھیں گا کے سناؤں کیسے
میرے بولوں میں تری یاد تڑہتی ہے سدا
تیری تصویر خیالات میں رہتی ہے سدا
کاش کہہ پاؤں تجھے جو میں کبھی کہہ نہ سکا
تیرے بن ایک بھی پل دل کو سکوں رہ نہ سکا
گو پکارا مجھے کتنے ہی حسیں چہروں نے
پر کبھی حسن کی موجوں میں یہ دل بہہ نہ سکا
ساحل دل سے تو اک موج ہی ملتی ہے سدا
تیری تصویر خیالات میں رہتی ہے سدا
منتظر بیٹھا ہوں کب سے میں تری راہوں میں
آچھپا لے تو محبت سے مجھے بانہوں میں
آ کہ چھائے ہیں مری روح پہ غم کے بادل
ڈوب نہ جائے مری زیست کہیں آہوں میں
میرے سینے میں بس اک آگ سی جلتی ہے سدا
تیری تصویر خیالات میں رہتی ہے سدا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






