آ کسی وحشت خانے میں چلتے ہیں
Poet: سعدیہٓ اعجاز By: Sadia Ijaz Hussain, Lahore,University of Educationآ کسی وحشت خانے میں چلتے ہیں
جو مجھ سِی ہو اور تُجھ میں ہو
ہو رنگین جنگل ، انسان کے اندر
تنہائیوں کا سماں بھی ہو
پرندوں کی طرح رہیں سفر جہاں میں
منزلوں سے عشق ہی اپنی پُونجی ہو
کہیں درخت ہوں فصلِ گُل کی مانند
کہیں آبشاروں کی تشنگی ہو
ہو آنکھوں میں آتش رمزِ جاں کی
انہیں میں بہاروں کی آرزو ہو
جو رُخ بدلے !:تو سیلاب ہو برپا
جو چپ رہے ! تو آندھیوں کی آمدیں ہو
ہاں ایسی ویسی ہی کوئ دھن میں
بارش ہو رقصاں اِس چمن میں
پھر ہریالی کی ضد ہو ہم کو
پھر رِستے زخموں کی کِسے پڑی ہو؟
نظر ہو یکتا ،سفر ہو گامزن
سفر بھی خوبصورت اور حسین ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






