آ گیئ دھوپ میری چھاؤں کےپیچھے پیچھے
Poet: Tauqir Reza By: Haider Ali, Parisآ گیئ دھوپ میری چھاؤں کےپیچھے پیچھے
تشنگی جیسے ہو صحراؤں کےپیچھےپیچھے
نقش بنتے گیۓ اک پاؤں سی آگے آگے
نقش مٹتے رہے اک پاؤں کےپیچھےپیچھے
تم نے دل نگری کو اجڑا ہوا گاؤں جانا
ورنہ اک شہر تھا اس گاؤں ک پیچھےپیچھے
نیند برباد ہے خونناب ہیں آنکھیں پھر تو
گرچلوں قافیہ پیماؤں کے پیچھےپیچھے
عقل ہر خواب کی تعبیر کے پیچھےبھاگے
دل ازل ہی سے ہے آشاؤں کےپیچھےپیچھے
ٹھوکریں سارے زمانے کی یتیموں کا نصیب
تہمتیں دہر کی بیواؤں کی پیچھےپیچھے
ان سنے ایک بلاوے نے اجاڑے آنگن
برکتیں اٹھ گیئں سب ماؤں کے پیچھےپیچھے
وسوسے روک کےبیٹھے ہیں ہمارارستہ
حادثے ہیں کہ لگے پاؤں کےپیچھےپیچھے
ہو کےرہنا ہےکسی روز اسے بھی روشن
وہ جو اک بھید ہےریکھاؤں کے پیچھےپیچھے
اہل دل ڈھونڈ کوئی ایسے چلے گا کب تک
اپنی خودساختہ آراؤں کےپیچھےپیچھے
اپنے بڑھتے ہوے گستاخ قدم روک رضا
غوث و ابدال چلے ماؤں کےپیچھےپیچھے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







