ابھی تنہا، افق کے پار ساری رات تکتا تھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاابھی تنہا، افق کے پار ساری رات تکتا تھا
ستاروں سے شکایت ہوگئی تو کیا یہ اچھا تھا
ابھی چاہت گنوا دینے کی ضد تم کو ہے شدت سے
اگر پانے کی حسرت ہوگئی تو کیا ہی برا تھا
میں انسانوں کی تکلیفوں پہ روتا اور سسکتا ہوں
محبت کا بھی اک غم ہے جسے چپ چاپ سہتا تھا
خلوص و پیار کے نغمات گائے ہیں ہمیشہ ہی
مگر ان کے صلے میں غم بہت ہی اٹھانا تھا
محبت کا یہاں بدلہ تو بس نفرت ہی پایا ہے
ملے ہیں خار جب بھی پھول الفت کا کھلایا تھا
یہ سب سچ ہے مگر مایوس اب تک میں نہ ہو پایا
امنگوں کا ترانہ دوستو ! ہر دور گایا تھا
بہت عاجز ہوں مجھ کو طنز کرنا ہی نہیں آتا
تکبر میں کسی سے بات کرنا یہ نہیں بھاتا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






