ابھی تو بہار ہے ساون کی برسات باقی ہے
Poet: Roshani By: Roshani, U.A.Eٹھہر جاو! ابھی تو کالی رات باقی ہے
ابھی تو بہار ہے ساون کی برسات باقی ہے
ابھی تو پھول ہیں پیروں تلے
کانٹوں بھری راہیں باقی ہیں
ابھی تو خواب ہیں آنکھوں میں
آنسوؤں کا سیلاب باقی ہے
ابھی تو سکوں میں ہے جان اپنی
روکتی سانسوں کا درد باقی ہے
ابھی تو ہو محفل میں ہو جاناں
صحرا کی دھوپ ابھی باقی ہے
ابھی تو ہیں خوشیوں کے لمحے
تنہائیوں کے موسم باقی ہے
ابھی تو خوشنما ہیں پھول کی مانند
ابھی تو تنکا تنکا بکھرنا باقی ہیں
ابھی تو مسکراہٹ ہے ہونٹوں پر
ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں چھبنا باقی ہیں
ابھی تو زندگی خوبصورت ہے
حالات کی تلخیاں باقی ہیں
ابھی تو سحر ہے جاناں
آگ کا دریا باقی ہے
ابھی تو ملاقات ہوتی ہے اپنی
جدائی میں دل کی تڑپ باقی ہے
ابھی تو ہیں چاہتوں کے سلسے
عشق کے امتحاں باقی ہیں
ابھی تو آغاز ہے جاناں
سوچ لو! ابھی تو انجام باقی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






