ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا
Poet: مظفر رزمی By: نعمان, Lahoreابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا
مری بستی میں ہنگاموں کا اندازہ نہیں ہوتا
جدھر محسوس ہو خوشبو اسی جانب بڑھے جاؤ
اندھیری رات میں رستوں کا اندازہ نہیں ہوتا
جو صدیوں کی کسک لے کر گزر جاتے ہیں دنیا سے
مورخ کو بھی ان لمحوں کا اندازہ نہیں ہوتا
یہ رہبر ہیں کہ رہزن ہیں مسیحا ہیں کہ قاتل ہیں
ہمیں اپنے نمائندوں کا اندازہ نہیں ہوتا
نظر ہو لاکھ گہری اور بصیرت آشنا پھر بھی
نقابوں میں کبھی چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا
زمیں پر آؤ پھر دیکھو ہماری اہمیت کیا ہے
بلندی سے کبھی ذروں کا اندازہ نہیں ہوتا
وفاؤں کے تسلسل سے بھی اکثر ٹوٹ جاتے ہیں
محبت کے حسیں رشتوں کا اندازہ نہیں ہوتا
اتر جاتے ہیں روح و دل میں کتنی وسعتیں لے کر
غزل کے دل ربا لہجوں کا اندازہ نہیں ہوتا
سلیقے سے سجانا آئینوں کو ورنہ اے رزمیؔ
غلط رخ ہو تو پھر چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






