ابھی دل رقیبوں کا جلا رہا ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاابھی دل رقیبوں کا جلا رہا ہوں
نیا حشر شاید وہ اٹھا رہا ہو ں
رکو ایسی جلدی بھی کیا میرے قاتل
تجھے اب تماشا ہی دیکھا رہا ہوں
سناؤ نہ مجھ کو اندھیروں کا قصہ
مگر عشق میں بھی وہ جلا رہا ہوں
مرا آئینہ بن کے چاہت ہی میں
مجھے ہی محبت سے دیکھا رہا ہوں
جنہیں میں نے مشکل سے رخصت کیا ہے
وہی خواب دل میں وہ بتلا رہا ہوں
نگاہوں میں بس جائے گی زندگی ہی
مسلسل مری آنکھ دیکھا رہا ہوں
لگا کر رقیبوں سے وہ دوستی جو
مرے دشمنوں کو وہ پھیلا رہا ہوں
وہ وشمہ مرے ساتھ چلتے ہوئے جو
مرے بھی دکھوں کا مداوا رہا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






