ابھی زمانے کا معیار ہے تمہارے کیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکسے بتاؤں کہ غم ہے کیا اتارے کیا
ابھی زمانے کا معیار ہے تمہارے کیا
قدم قدم پہ میں سنبھلی ہوں ٹھوکریں کھا کر
یہ ٹھوکروں نے بتایا ہمیں ہمارے کیا
زمیں پہ لالہ و گل آسماں پہ ماہ و نجوم
نگاہ حسن طلب کے جو بھی اشارے کیا
کمند ڈال رہا ہے جو چاند تاروں پر
خدا ہی جانے کہ تقدیر میں تمہارے کیا
نفس کی آمد و شد پر بھی اختیار نہیں
نکل گئے ہیں وہ میداں ہمارےسارے کیا
وفا پرستوں سے کیوں ضد ہے اس پہ سب چپ ہیں
سوال یہ ہے کہ اس کا جو بھی پکارے کیا
وشمہ جی تیرگیٔ شب کا احترام کرو
یہ ہو گیا ہے خدا جانے دل کنارے کیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






