ابھی کچھ باقی ہی سہی
Poet: Ameer usman By: Ameer usman, علی پور چھٹہابھی کچھ باقی ہی سہی
چھپی بے تابی ہی سہی
درس سے نوازا مجھ کو
درس گر پاپی ہی سہی
رحمان ضیمر دیکھتا ہے
نشہ مصر حافی ہی سہی
ہاں تو ناٸب خدا ہے انساں
حکم تو عطاٸی ہی سہی
ستر کا مطلب بے شمار ہے
ہاۓ میں داغی ہی سہی
فانی ہے دنیا اور میں
اس سے باغی ہی سہی
اور تو خیرات کیا کر بس
ہاں وہ حجابی ہی سہی
عمر کو فکر کے حوالے کر
بچی جو باقی ہی سہی
مجھ کو خاک سے محبت ہے
ہاں ہم خاکی ہی سہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






