اب انہیں ہم سے الفت نہیں رہی
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMاب انہیں ہم سے الفت نہیں رہی
اپنےپاس پیار کی دولت نہیںرہی
ان کے غم کےسہارےجیےجارہاہوں
مگر زیست میں اب وہ لذت نہیں رہی
میں بھی الجھ گیا ہوں کام کاج میں
انہیں یاد کرنےکی فرصت نہیں رہی
نا جانے وہ کیوں روٹھ گئےہم سے
لگتا ہےانہیں ہماری ضرورت نہیں رہی
چھوٹی چھوٹی باتوں سےوہ دور ہو گئے
ہمارے درمیاں اب وہ قربت نہیں رہی
اپنی تو کوئی خوائش پوری نہیں ہوتی
اب دل میں کوئی حسرت نہیں رہی
پہلی ہی چاہت میں اتنےدرد ملے ہیں
اب ہمیں اور غم سہنےکی ہمت نہیں رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






