اب اور جینا نہیں ہے
Poet: NS By: NS, Lahoreزہر زندگی کا پینا نہیں
مجھے اب اور جینا نہیں
اے خوشیوں مجھ سے دور ہی رہا کرو
کہ اب مجھے اور غم زدہ ہونا نہیں
اے غموں اپنا سایہ پھیلائے رکھو
کہ خوشیوں کے بادل پر
میرا بسیرا نہیں
میں جانتی ہوں میرے اپنے
مجھے چاہتے ہیں
یوں مجھے دکھ دینا
ان کا مقصد نہیں
دکھ ہمیں خوشیوں کا احساس دلاتے ہیں
ہر دکھ کا مقصد درد دینا نہیں
میں تم سے دور رہ کر جینا چاہتی ہوں
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں
کہ مجھے تم سے پیار نہیں
کیوں ہاتھوں کی لکیروں سے الجھوں میں
جب ان میں اپنا ملن
لکھا ہی نہیں
میں اس لیے بھی حد سے زیادہ
خوش ہوتی نہیں
کیونکہ خوشی مجھے کوئی
راس آتی ہی نہیں
سب کچھ جانتے ہوئے بھی
میں ایسے راستے پر چلنا چاہتی ہوں
جس کی کوئی منزل ہی نہیں
کبھی کبھی مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
کہ تو میرے ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہیں
بھول تو خیر اک دن تم نے بھی جانا ہے
پہلے سب ہی کہتے ہیں
نہیں میری جان ایسا نہیں
دل کی دھڑکن رک کیوں نہیں جاتی
جب جینے کی کوئی آس ہی نہیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






