اب بھی عشق دسترس لے آئے گا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiاب بھی عشق دسترس لے آئے گا
تو مجھے برباد ہونے سے کون بچائے گا
میری ابھلاشا کے آداب مضر رہے
کہ فطرت سے من بہل جائے گا
اس چمن میں خوشبوء مہکانے لیئے
سنا ہے آج کوئی اپنی ادا سے آئے گا
باہر ہے جلووں کے سوداگری
اے دل تو کس کس کو خدا بنائے گا
پتوں پہ شبنم کے قطرے نے گر کر کہا
کسی کی یاد کا تلاطم صَبا کو رلائے گا
مانا کہ وقت قسمت کا دھنی رہا ہے
تو پھر تقدیر کا فیصلہ کون سنائے گا
اک اُدھار کی زندگی جینے کے بعد سنتوشؔ
ہر شخص موت کے قابل ہو جائے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






