اب تم آؤ یا نہ آؤ ایک برابر
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTاب تم آؤ یا نہ آؤ ایک برابر
ہماری تنہائی گھٹاؤ یا نہ گھٹاؤ ایک برابر
اب ہر دکھ جھیلنا سیکھ لیا ہے ہم نے
اب تم ہمیں ستاؤ یا نہ ستاؤ ایک برابر
اب تمہاری کوئی ادا ہم پہ اثر کرتی نہیں
اب تم مسکراؤ یا نہ مسکراؤ ایک برابر
اب تمہارے ستموں کے ہم ہو گئے ہیں عادی
تم سنگ ہم پہ گراؤ یا نہ گراؤ ایک برابر
اب دل مچلتا نہیں تمہارا حسن دیکھ کر
تم خود کو سجاؤ یا نہ سجاؤ ایک برابر
اب میری سوچوں میں اک سکوں ہو گیا ہے شامل
تم میری بے چینی بڑھاؤ یا نہ بڑھایو ایک برابر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






