اب تو لوٹ آؤ
Poet: sehrish By: sehrish zahid, narang mandiاک عمرسےہےانتظاراب تو لوٹ آؤ
آنکھیں ہیں اشکباراب تولوٹ آؤ
جلائےہیں تیری راہ میں دیےمیں نے
ہوا کا نہیں اعتبار اب تو لوٹ آؤ
بن نہ جاؤں میں نصیب کسی کا
مجھ کو نہیں اختیار اب تو لوٹ آؤ
اس سال بھی عید تنہا ہی گزری
کب سے ہیں غمگساراب لوٹ آؤ
عہد و قرار تم بھول گئے لیکن
گواہ ہیں درو دیوار اب تولوٹ آؤ
غیروں کےکہنےپرتم روٹھ گئی سحر
مجھے تھا اعتبار اب تو لوٹ آؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







