اب جو اٹھتی نہیں نظر شاید
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااب جو اٹھتی نہیں نظر شاید
تیری یادوں کا ہے نگر شاید
جس کے چہرے پہ حادثہ ہے کوئی
اُس کو لگنے لگا ہے ڈر شاید
اب جو بیٹھی ہوں انجمن میں تری
اب نہ آئے گا میرا گھر شاید
اُس کی آنکھوں میں زندہ رہنے کا
اب ہے الزام میرے سر شاید
اُس نے غیروں سے بیت کر لی ہے
اُس کو میری نہیں خبر شاید
تیری میری چھپی ہے شہ سرخی
ایک اخبار میں خبر شاید
روز جس کے میں گیت گاتی ہوں
روز گھٹتی ہے یہ عمر شاید
ساتھ چھوڑا ہے آج وشمہ نے
میں بھی جاؤں گی آج مر شاید
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






