اب مجھے لرزتی پلکوں سے گرایا جائے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillبتایا جائے نہ مدعا ۔ نہ دبایا جائے
آئینے سے کہاں تک عکس چھپایا جائے
ایک نہ ایک دن لفظوں میں چھلک آتا ہے
کب تلک خون کو گردش میں گھمایا جائے
ہزاروں پھول نگاہوں کو بھلے لگتے ہیں
دل کا افسانہ بھی کس کس کو سنایا جائے
میں اشک بن کے تیرے دل سے نکل آیا ہوں
اب مجھے لرزتی پلکوں سے گرایا جائے
میں سنگ راہ ہوں تو ٹھوکر کا سزاوار سہی
میں درد دل ہوں تو سینے سے لگایا جائے
میں ذرا اور روشنی کو منعکس کر لوں
مجھے کچھ دیر دھنک سے نہ چرایا جائے
اپنے حصے کی بہاروں سے کہیں بہتر ہے
تیرے دامن کو شراروں سے بچایا جائے
میں اپنی ذات کی تشہیر سے گریزاں ہوں
میرے افکار کو سرخی نہ بنایا جائے
تمہارے عشق نے ہمت مجھے عطا کی ہے
مجھے اب شوق سے سولی پہ چڑھایا جائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






