اب محبت ہم کو راس آتی نہیں
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Karachiاب محبت ہم کو راس آتی نہیں
بوسیدہ جزبوں میں آگ لگائی جاسکتی نہیں
وقت کا دھارا الٹا بہتا نہیں
گزرے پل اور لمحے لوٹائے جاسکتے نہیں
یادیں انمول صحیح
مگر ان کے سہارے جیا جاسکتا نہیں
آج جو ہے وہ کل میں بدل جائے گا
گزرتے پل کو روکا جاسکتا نہیں
منزلیں شاید بدل بھی جائیں لیکن
راستے بدلتے نہیں
اگر زیست ایک سزا کی مانند لگے تو
اسے گزارے بغیر چارہ بھی تو نہیں
لکھا خوب ہے اور لکھتے رہینگے یونہی
مگر تحریروں میں وہ چاشنی اب باقی نہیں ۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






