اب میری جان تو بخش دے۔۔۔۔۔
Poet: Sana Ghori By: Sana Ghori, karachiمیرا مرض بھی تو ں سہی میرا طبیب بھی تو ں سہی
گر ہو سکے اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
سفر میر ا طویل تر ساتھ تیرا قلیل تر
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
وصل کی شب خواہش مگر تیرا ساتھ حوص مگر
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
اندر کہیں دنیا بسی تیرا وجود میری زندگی
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
تیرا ساتھ لگے مجھے بیڑیاں جیسے ہوں قفس کی سیڑھیاں
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
تجھ سے تعلق روح کا نہیں میرا جسم تیرا اسیر ہے
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
کیا گویائی کا جو میں نے فیصلہ تو سن میرے اے ہم سفر
یہ زبان میں کاٹ دے اب میری جان تو بخش دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






