اب میں کیسے زندہ رہوں تمہارے بغیر لکی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمین کتنی خوش تھی کہ
تم ساتھ تھے میرے
چاہیں دور سہی پر اک
تم ہی تو ہم راض تھے میرے
نا کوئی تفصیل کبھی تم سے مانگی
نا کوئی دلایل کبھی تم سے مانگی
پھر بھی یر موڑ پے دیتے رہے سزا
جسے کوئی انجانا گناہ تھے تم میرے
نجانے میں کیسے
سوار ہو گئی کشتی میں تمہاری
جو مجھے تنہا چھوڑ گیے
جسے کوئی ادھورا خوب تھے تم میرے
تمہارے جانے کے بعد بھی
نا بدلی میری زندگی
اور نا ہی بدلی میں
پھر تم اتنی جلدی کیسے بدل گئے
جسے کوئی اچھے حالات تھے تم میرے
کیوں چھین لیا ؟ مجھے سے ذوق بھی میرا
جانتے ہو کیا ؟ ان چھپے لفطوں میں
اک تم ہی تو عنواں تھے میرے
کبھی چل کر تو دیکھنا تھا
ُان لفظوں پے جہاں قدم قدم پے
اشعار تھے تم میرے
میں ابھی تک بھولی نہیں تمہاری آواز کو
جسے دل کی دھڑکنوں کے ساز تھے تم میرے
اب میں کیسے زندہ رہوں تمہارے بغیر لکی
کہ اک تم ہی تو جینے ہی وجہ تھے میرے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







