اب نہِیں ہم سے کوئی درد سنبھالا جائے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہاب نہِیں ہم سے کوئی درد سنبھالا جائے
گِن کے لے لو جی امانت کہ یہ بالا جائے
تُم کوئی حُکم کرو اور نہِیں ہو تعمِیل
حُکم تو حُکم، اِشارہ بھی نہ ٹالا جائے
جِس کو آدابِ محبّت کا نہِیں ہے احساس
ایسے گُستاخ کو محفل سے نِکالا جائے
کِتنا اچھّا ہے کِسی اور کا دُکھ اپنانا
ہم سے ہی روگ محبّت کا نہ پالا جائے
ہر طرف نُور کی برسات برس جاتی ہے
جونسی راہ بھی اُس رخ کا اُجالا جائے
آؤ اِک باب محبّت کا کریں ہم تحرِیر
اِقتباس اپنے رویّے سے نِکالا جائے
چاند تو گردِشِ حالات نے چِھینا ہے مِرا
اب کہِیں یاد کا ہاتھوں سے نہ ہالا جائے
جو بھی ہے اہلِ نظر وہ تو مِرے ساتھ رہے
کم نظر دُور، بہُت دُور اُچھالا جائے
یہ عجب ایک نیا طرز حکومت ہے میاں
مُنہ سے مزدُور کے بس مُنہ کا نِوالا جائے
کیا خبر وقت ہمیں لے کے چلے کون طرف
خُُود کو اب ایک نئے سانچے میں ڈھالا جائے
کوئی حِکمت ہی رکھیں، کوئی نِکالیں ترکِیب
دُور حسرتؔ سے مگر درد کی مالا جائے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






