اب نہِیں ہم سے کوئی درد سنبھالا جائے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہاب نہِیں ہم سے کوئی درد سنبھالا جائے
گِن کے لے لو جی امانت کہ یہ بالا جائے
تُم کوئی حُکم کرو اور نہِیں ہو تعمِیل
حُکم تو حُکم، اِشارہ بھی نہ ٹالا جائے
جِس کو آدابِ محبّت کا نہِیں ہے احساس
ایسے گُستاخ کو محفل سے نِکالا جائے
کِتنا اچھّا ہے کِسی اور کا دُکھ اپنانا
ہم سے ہی روگ محبّت کا نہ پالا جائے
ہر طرف نُور کی برسات برس جاتی ہے
جونسی راہ بھی اُس رخ کا اُجالا جائے
آؤ اِک باب محبّت کا کریں ہم تحرِیر
اِقتباس اپنے رویّے سے نِکالا جائے
چاند تو گردِشِ حالات نے چِھینا ہے مِرا
اب کہِیں یاد کا ہاتھوں سے نہ ہالا جائے
جو بھی ہے اہلِ نظر وہ تو مِرے ساتھ رہے
کم نظر دُور، بہُت دُور اُچھالا جائے
یہ عجب ایک نیا طرز حکومت ہے میاں
مُنہ سے مزدُور کے بس مُنہ کا نِوالا جائے
کیا خبر وقت ہمیں لے کے چلے کون طرف
خُُود کو اب ایک نئے سانچے میں ڈھالا جائے
کوئی حِکمت ہی رکھیں، کوئی نِکالیں ترکِیب
دُور حسرتؔ سے مگر درد کی مالا جائے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






