اب نہیں لے گا مرے ساتھ ترا نام کویٔ
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKاب نہیں لے گا مرے ساتھ ترا نام کویٔ
اب مری ذات پہ آۓ گا نہ اِلزام کویٔ
لوگ مرضی سے بھی بدنام ہوُا کرتے ہیں
نام ہو تا ہے جو ہو جاتا ہے بدنام کویٔ
ایک لمحہ بھی ترے پاس نہیں میرے لیۓ
کاش ہو سکتی مرے نام تری شام کویٔ
تیرے ملبوس کی خوشبو ہے مرے چار طرف
اِن ہواؤں میں چھپا ہے ترا پیغام کویٔ
نا اہل ہو کے بھی پا لیتا ہے کوِیٔ شہرت
اہل ہوتے ہوۓ رہ جاتا ہے گمنام کوِیٔ
وہ کہانی کہ شروع تم نے کیا تھا جِس کو
آج دے ڈالو اُسے اچھا سا انجام کویٔ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






