اب نہ تنہائی میں تیرے لیے ہم روئیں گے
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanذکر تیرا نہ کریں گے نہ تجھے سوچیں گے
اب نہ تنہائی میں تیرے لیے ہم روئیں گے
اب وفائیں ہیں نہ پہلی سی فضائیں باقی
تیری زلفوں کی نہ اب وہ ہیں گھٹائیں باقی
زندگی تیری محبت میں پریشان ہوئی
رہ گئیں صرف وفاؤں کی سزائیں باقی
زخم جو تو نے محبت کے دیے دھو لیں گے
اب نہ تنہائی میں تیرے لیے ہم روئیں گے
کس قدر ٹوٹ کے چاہا تھا تجھے ہرجائی
اپنی چاہت کی تو بس تجھ سے سزا ہی پائی
اتنی شدت سے تجھے کاش نہ چاہا ہوتا
اور کچھ بھی نہ ملا ہم کو ملی رسوائی
کیا خبر تھی یوں ترے غم میں کبھی تڑپیں گے
اب نہ تنہائی میں تیرے لیے ہم روئیں گے
مل ہی جائے گی کبھی پیار کی محفل کوئی
کل پکارے گی نئی اور ہی منزل کوئی
تو نے تو سونپ دیا ہے ہمیں طوفانوں کو
پا ہی لیں گے جو مقدر میں ہے ساحل کوئی
غم کے اس گہرے سمندر سے نکل جائیں گے
اب نہ تنہائی میں تیرے لیے ہم روئیں گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






