اب نہ کہنا بے اختیار آجاؤ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا
اب نہ کہنا بے اختیار آجاؤ
اب نہ کہنا کہ مجھ سے پیار آجاؤ
آنکھ کھولو تو دنیا ہی دیکھو
تیری دنیا ہے اعتبار آجاؤ
ہوش میں آؤں بھی تو کیا دیکھوں
کیا لکھوں میں کہ ایک بار آجاؤ
ہیں خزاں میں بہار کی باتیں
لالہ و گل کا انتظار آجاؤ
سب سمجھتے ہیں میں کہوں نہ کہوں
جب کبھی لوٹ کر بہار آجاؤ
چھیڑ دیتا ہوں دل لگی کے لئے
اور تم ہی دو چار بار آجاؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






