اب وہ ہوگیا ہے مجھ سے بیگانہ
Poet: Imran Ahmed Khan By: Imran Ahmed Khan, pakistanجو تھا کہیں میرا دیوانہ مستانہ
اب وہ ہوگیا ہے مجھ سے بیگانہ
جسے سمجھتا تھا میں ہر پل اپنا
ایک ہی پل میں کر گیا مجھے بیگانہ
جس نے سکھائے تھے مجھے آداب محبت
محبت نام سے اب وہ ہے بیگانہ
ہوتا تھا جس کےلیے میں پروانہ
وہ چراغ ہو کر بجھ گیا بیگانہ
کرتا ہے اب وہ مجھ سے ملنے کے جھوٹے وعدے
جاتا ہے غیروں میں وہ ہو کر مجھ سے بیگانہ
چھوڑ دے تو اس پتھر کو عمران
جو تراشے سے بھی ہوتا ہے بیگانھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






