اب کوں ہے جو شہر میں قاتل نہیں رہا
Poet: By: Tariq Baloch, hub chowkiاب کوں ہے جو شہر میں قاتل نہیں رہا
ہم راز بھی یقین کے قابل نہیں رہا
یہ بات اور، آج وہ دھنوان بن گیا
کل رہزنوں کے ساتھ وہ شامل نہیں رہا
دُولت خرید لیتی ہے منصف کا فیصلہ
قاتل جو تھا وہ دیکھ لو قاتل نہیں رہا
اک دوستی کی آڑ میں کھایا ہےاس نے زخم
وہ جب سے ہی دوستی قائل نہیں رہا
بضم حیات میں بڑے سہمے ہوئے ہیں لوگ
اک چہرہ بھی خوشی سے یہاں کھل نہیں رہا
اب حال دل حیات ہے کچھ یوں بقول اسدَ
جسں دل پہ ناز تھا ہمیں وہ دل نہیں رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






