اب کہ ہر موسم ہی رضا، موسم ِ غم لگتا ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadہرشخص جسے دیکھو یہاں شعلہ چشم لگتا ہے
اب دنیا میں تیری سانس لینا بھی جرم لگتا ہے
لذتِ غم ایسی ہے کہ احساس سے عاری ہے بدن
اب کہ ہرعارضہ مجھ کوتیرا لُطف و کرم لگتا ہے
ہر رستہ ہے پرُخار، ہرشب شبِ درد ہو جیسے
اذیت کی امر بیل پر ہر روز نیا زخم لگتا ہے
گریزاں ہیں سبھی مجھ سے کہیں ایسا تو نہیں
کچھ مجھ میں کمی ہوگی کچھ مجھ میں سقم لگتا ہے
ساتھ رہنے کی میرے، اُٹھا رکھی ہو قسم جیسے
یہ ہجر کا غم بھی میری طرح پُختہ عزم لگتا ہے
یہ زیست ِ لاحاصل اُس کی دہلیز پہ گزری ہے
کیا پوچھتے ہو میرا کیا وہ پتھرکا صنم لگتا ہے
لگتا ہے ٹوٹ کے بکھرے ہو بڑی شدت سے
لہجے میں بڑاکرب، باتوں میں بڑا دم لگتا ہے
کچھ عجب سی ہوا چلی ہے دل کےآنگن میں
اب کہ ہر موسم ہی رضا، موسم ِ غم لگتا ہے
تیری یاد میری آنکھوںمیں جھلماےئی ہے
آج پھر ٹوٹ کے برسے گا یہ ابرِکرم لگتا ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






