اب ہیں خزاں کے ڈیرے گلشن کی تازگی میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااب ہیں خزاں کے ڈیرے گلشن کی تازگی میں
مرجھا گئے ہیں غنچے تتلی کی عاشقی میں
اس ظاہری محبت ، دو دن کی زندگی میں
ہم نے لٹا دیں خوشیاں دیکھو خوشی خوشی میں
اب کیا خوشی سے جھومیں ، اب کیسے مسکرائیں
اس کا نہیں گزر اب دل کی مری گلی میں
نوکِ سناں پہ بھی سر جھکنے نہیں ہے پایا
اندازِ فاتحانہ دیکھا ہے رہبری میں
جب پانیوں کے اوپر لکھے وفا کے قصے
پھر کیسے ڈھونڈ پائیں اخلاص دلبری میں
یہ آنگ سان سوچی برما کی خاک چاٹے
ہو یہ ذلیل و رسوا دنیا کی ہر گلی میں
چہرے پہ لے کے چہرہ میک اپ زدہ جہاں میں
جینا ہی چھن گیا ہے وشمہ جی سادگی میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






